Posts

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی

ترے غم کشوں میں سے ایک

زور پیدا جسم و جاں کی ناتوانی سے ہوا

خاص بنو اور عام رہو

حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

مجھے کوئی شام ادھار دو

یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے

Tamana