مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت

مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت
 میں گیا وقت نہیں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنہٴ اغیار کا شکوہ کیا ہے
 بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو، ستمگر! ورنہ
 کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں؟

Comments

Popular Posts