Ab Umer ki Naqdi Khatam Howi - Ibn Insha

ابنِ انشا کی آخری نظم
[رسالہ ' اظہار' کی چوتھی کتاب اگست ١٩٧٨ میں اس نوٹ کے ساتھ شائع ھوئی (یہ ابن انشا کی آخری نظم ھے جن کو مرنے سے کچھ پہلے ڈاکٹر نے لندن میں بتا دیا تھا کہ آپ فلاں ماہ، فلاں ھفتے تک اور زندہ ھیں- یہ خبر اور نظم ھمیں طہران سے ہادی طباطبائی سے موصول ھوئی - ایڈیٹر )-رسالے کے مدیر باقر مہدی تھے -]
اب عمر کی نقدی ختم ھوئی
اب ھم کو اُدھار کی حاجت ھے
کچھ سال، مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ھاں اپنی جاں کے خزانے سے
ھاں عمر کے توشہ خانے سے

کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں؟ 
کیا کوئی بھی دیون ھار نہیں؟ 
جب نام ادھار کا آیا ھے. ؟
کیوں سب نے سر کو جھکایا ھے؟ 
کچھ کام ھمیں نپٹانے ھیں 
جنھیں جاننے والے جانے ھیں
کچھ پیار دُلار کے دھندے ھیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ھیں

ھم مانگتے نہیں ھزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ھاں سود بیاج بھی دے دیں گے
ھاں اور. خراج بھی دے دیں گے
آسان بنے. دشوار. بنے
پر کوئی تو ساھو کار بنے

تم. کون ؟ تمھارا نام ھے کیا؟ 
کچھ ھم سے تم کو کام ھے کیا؟ 
کیوں اس مجمعے میں آئی ھو، 
کچھ مانگتی ھو؟ کچھ لائی ھو؟ 
یہ کار و بار. کی باتیں ھیں 
یہ نقد اُدھار کی باتیں ھیں
ھم بیٹھے ھیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ھو 
تب سمجھو جلد جدائی ھو

اب گیت گیا سنگیت گیا
ھاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
یہ اپنے یار پُرانے ھیں
اک عمر سے ھم کو جانے ھیں
ان سب کے پاس. ھے مال بہت
ھاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ھم نے بلایا ھے 
اور جھولی کو پھیلایا ھے 
تم جاؤ ، ھم. اِن سے بات کریں
ھم تم سے نا ملاقات کریں

کیا ؟ پانچ برس ؟
کیا عمر اپنی کے پانچ برس
تم جان کی تھیلی لائی ھو؟ 
کیا پاگل ھو ؟ سودائی ھو؟. 
جب عمر کا آخر آتا ھے 
ھر دن صدیاں بن جاتا ھے
جینے کی ھوس نرالی. ھے
ھے کون جو اس سے خالی ھے

کیا موت سے پہلے مرنا ھے؟ 
تم کو تو. بہت کچھ کرنا ھے
پھر تم ھو ھماری کون بھلا؟ 
ھاں تم سے ھمارا کیا رشتہ؟ 
کیا سود بیاج کا لالچ ھے؟ 
کسی اور خراج کا. لالچ ھے؟ 
تم سوھنی ھو، من موھنی ھو
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس یہ چار برس
چھن جائیں تو لگے ھزار برس

سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساھوکار گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ھے
یہ کون ھے، کیا ھے، کیسی ھے؟ 
ھاں عمر ھمیں درکار بھی ھے
ھاں جینے سے ھمیں پیار بھی ھے
جب مانگیں زندگی کی گھڑیاں
گستاخ انکھیاں کس جا لڑیاں

ھم قرض تمھیں لوٹا دیں گے 
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے 
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں 
لو، اپنے جی میں اُتار لیا
لو ، ھم نے تم سے اُدھار لیا

Comments

Popular Posts