Posts

یہ کہانی پھر سہی Ye kahani Phir Sahi

وہ جو پیڑ جڑ سے اکھڑ گیا اسے موسموں کا ملال کیا

تنگیٔ وقت ملاقات نے رونے نہ دیا

شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھا

نہ جانے کس لیے

میں نے اے شخص تجھے جینا سکھایا تھا کبھی

Ae Gardish-e-Ayyam